(آنلائن کاروبار کامسئلہ؟)
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ میں کہ ایک شخص نے کسی کو چاندی کے کاروبار پر اس طرح وکیل بنایا کہ 70 پرسنٹ خود نفع لے گا اور 30 پرسنٹ وکیل کاروبار وکیل گوگل کے ذریعہ آنلائن کرے گا جس میں ہاتھوں ہاتھ لین دین کا معاملہ نہیں رہے گا مثلأ ایک کلو چاندی کمپنی اس سے آنلائن بیچے گی پھر جب چاندی کی قیمت میں خاطرخواہ اضافہ ہو جائے گا تو وہ وکیل کمپنی سے دوبارہ بیچ دے گا اس طرح وکیل و مؤکل دونوں متعین نفع حاصل کرلیں گے تو اس طرح کاروبار کرنا عند الشرع کیسا ہے ؟دلائل کی روشنی میں جواب ارشاد فرماکر ممنون فرمائیں
المستفتی: قاری محمد حسین نظامی استاذ دارالعلوم قادریہ نجم العلوم بھاو نگر گجرات
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
اگر مذکورہ کمپنی کے آن لائن نظام میں حقیقتاً ایک کلو چاندی خریدنے کے بعد وہ ایک کلو چاندی خریدار کی ملکیت اور قبضے میں نہیں آتی بلکہ صرف کمپیوٹر ایپ پر اس کے اکاؤنٹ میں ایک کلو چاندی درج کردی جاتی ہے اور خریدار حقیقتاً اس چاندی پر قابض و متصرف نہیں ہوتا پھر قیمت بڑھنے پر اسی کمپنی کو محض قیمت کے فرق کے ساتھ واپس فروخت کرکے نفع حاصل کرتا ہے تو یہ معاملہ شرعاً درست نہیں کیونکہ اس میں چاندی کی حقیقی خرید و فروخت اور شرعی قبضہ نہیں پایا گیا۔
بدائع الصنائع میں ہے وأما الشرائط (فمنها) قبض البدلين قبل الافتراق لقوله: عليه الصلاة والسلام في الحديث المشهور (والذهب بالذهب مثلا بمثل يدا بيد والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد) (کتاب الصرف،فصل في شرائط الصرف،ج5،ص217،دارالکتب العلمیہ) یعنی سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو۔
ہاں اگر کمپنی کے پاس حقیقتاً چاندی موجود ہو خریدتے ہی ایک کلو چاندی خریدار کے لیے متعین کردی جائے مکمل قیمت ادا ہوجائے اور خریدار کو اس چاندی پر ایسا اختیار حاصل ہوجائے کہ وہ اسے جب چاہے لے سکتا ہو فروخت کرسکتا ہو یا اپنے وکیل کے ذریعے اس میں تصرف کرسکتا ہو تو ایسا قبضہ قبضِ حکمی شمار ہوسکتا ہے لہٰذا صرف آن لائن ہونا بذاتِ خود ناجائز ہونے کی علت نہیں اصل اعتبار اس بات کا ہے کہ حقیقی ملکیت اور معتبر شرعی قبضہ حاصل ہوا یا نہیں۔ والله تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار
ایک تبصرہ شائع کریں